تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 2

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾
یہ کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو، بے شک میں تمھارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ En
(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں
En
یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ کہ عبادت صرف اللہ کی کرو یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِیْ لَكُمْ بے شک میں تمھارے لیے ﴿ مِّؔنْهُ اس کی طرف سے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِیْرٌ ڈر سنانے والا۔ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِیْرٌ خوشخبری دینے والا۔ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإنما أنزل الله كتابه لأن لا تعبدوا إلاَّ اللهَ؛ أي: لأجل إخلاص الدين كلِّه لله، وأن لا يُشْرِكَ به أحدٌ من خلقه. {إنني لكم}: أيُّها الناس، {منه}؛ أي: من الله ربكم {نذيرٌ}: لمن تجرَّأ على المعاصي بعقاب الدنيا والآخرة، {وبشيرٌ}: للمطيعين لله بثواب الدُّنيا والآخرة.