تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 1

الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾
الر ۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔ En
الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے
En
الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كِتٰبٌ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتْ پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ حکمت والے کی طرف سے وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِیْرٍ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔
جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: هذا {كتابٌ}: عظيم ونزل كريم، {أُحْكِمَتْ آياته}؛ أي: أتقنت وأحسنت، صادقةٌ أخبارها، عادلةٌ أوامرها ونواهيها، فصيحةٌ ألفاظهُ بهيةٌ معانيه، {ثم فُصِّلَتْ}؛ أي: ميزت وبينت بياناً في أعلى أنواع البيان، {من لَدُنْ حكيم}: يضع الأشياء مواضعها، وينزلها منازلها، لا يأمر ولا ينهى إلا بما تقتضيه حكمته، {خبيرٍ}: مطَّلع على الظواهر والبواطن؛ فإذا كان إحكامه وتفصيلُه من عند الله الحكيم الخبير؛ فلا تسألْ بعد هذا عن عظمته وجلالته واشتماله على كمال الحكمة وسعة الرحمة.