تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 3

وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ﴿۳﴾
اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمھیں ایک معین مدت تک اچھا ساز وسامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم پھر گئے تو یقینا میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ En
اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
En
اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناه اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اسی کی طرف متوجہ رہو، وه تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا اور ہر زیاده عمل کرنے والے کو زیاده ﺛواب دے گا۔ اور اگر تم لوگ اعراض کرتے رہے تو مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں۔ ﴿ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ پھر اس کی طرف توبہ کرو۔ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں۔ فرمایا: ﴿یُمَتِّعْكُمْ مَّؔتَاعًا حَسَنًا وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى ایک وقت مقرر تک یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّیُؤْتِ كُ٘لَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنْ تَوَلَّوْا اگر تم نے روگردانی کی۔ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأن استغفروا ربَّكم}: عن ما صدر منكم من الذُّنوب، {ثم توبوا إليه}: فيما تستقبلون من أعماركم بالرجوع إليه بالإنابة والرجوع عما يكرهه الله إلى ما يحبُّه ويرضاه. ثم ذكر ما يترتَّب على الاستغفار والتوبة، فقال: {يمتِّعْكم متاعاً حسناً}؛ أي: يعطيكم من رزقه ما تتمتَّعون به، وتنتفعون {إلى أجل مسمّى}؛ أي: إلى وقت وفاتكم. {ويؤت}: منكم {كلَّ ذي فضل فضلَه}؛ أي: يعطي أهل الإحسان والبر من فضله وبرِّه ما هو جزاءٌ لإحسانهم من حصول ما يحبُّون ودفع ما يكرهون. {وإن تَوَلَّوا}: عن ما دعوتكم إليه، بل أعرضتُم عنه، وربَّما كذَّبتم به، {فإني أخاف عليكم عذابَ يوم كبيرٍ}: وهو يوم القيامة، الذي يجمع الله فيه الأوَّلين والآخرين.