جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتا ہو ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ اسی (دنیا) میں پورا دے دیں گے اور اس (دنیا) میں ان سے کمی نہ کی جائے گی۔
En
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی
جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَنْكَانَیُرِیْدُالْحَیٰوةَالدُّنْیَاوَزِیْنَتَهَا ﴾”جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق“ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّاِلَیْهِمْاَعْمَالَهُمْفِیْهَا ﴾”بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں “ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمْفِیْهَالَایُبْخَسُوْنَ ﴾”اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔“ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {من كان يريد الحياة الدُّنيا وزينتَها}؛ أي: كلُّ إرادته مقصورةٌ على الحياة الدُّنيا وعلى زينتها من النساء والبنين والقناطير المقنطرة من الذهب والفضة والخيل المسوَّمة والأنعام والحرث، قد صرف رغبته وسعيَهُ وعملَهُ في هذه الأشياء، ولم يجعلْ لدار القرار من إرادته شيئاً؛ فهذا لا يكون إلا كافراً؛ لأنَّه لو كان مؤمناً؛ لكان ما معه من الإيمان يمنعُه أن تكون جميع إرادتِهِ للدار الدُّنيا، بل نفس إيمانه وما تيسَّر له من الأعمال أثرٌ من آثار إرادتِهِ الدارَ الآخرة، ولكنْ، هذا الشقيُّ الذي كأنه خُلِقَ للدنيا وحدها، {نوفِّ إليهم أعمالهم فيها}؛ أي: نعطيهم ما قُسِمَ لهم في أمِّ الكتاب من ثواب الدُّنيا. {وهم فيها لا يُبْخَسون}؛ أي: لا يُنْقَصون شيئاً مما قُدِّرَ لهم، ولكنْ هذا منتهى نعيمهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔