تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 118

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔ En
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے
En
اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انھیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه لو شاء لجعل الناس أمَّة واحدة على الدين الإسلامي؛ فإنَّ مشيئته غير قاصرة، ولا يمتنعُ عليه شيءٌ،، ولكنَّه اقتضت حكمته أن لا يزالون مختلفين، مخالفين للصراط المستقيم، متَّبعين السبل الموصلة إلى النار، كلٌّ يرى الحقَّ فيما قاله والضَّلال في قول غيره.