تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 117

وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔ En
اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے
En
آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ﻇلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا درآں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں، یعنی وہ درست رویے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہو جائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وما كان الله ليهلك القرى بظُلم منه لهم والحالُ أنَّهم {مصلحون}؛ أي: مقيمون على الصلاح مستمرون عليه؛ فما كان الله ليهلكهم إلا إذا ظلموا، وقامت عليهم حجَّة الله.

ويُحتمل أنَّ المعنى: وما كان ربُّك لِيُهْلِكَ القرى بظلمهم السابق إذا رجعوا وأصلحوا عملهم؛ فإنَّ الله يعفو عنهم، ويمحو ما تقدَّم من ظلمهم.