تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 119

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّکَ ؕ وَ لِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ؕ وَ تَمَّتۡ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾
مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے انھیں اسی لیے پیدا کیا اور تیرے رب کی بات پوری ہو گئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔ En
مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا
En
بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اسی لئے پیدا کیا ہے، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انھیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جا لیا تھا… رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کر دیا گیا۔
﴿ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ اور اسی لیے ان کو پیدا کیا یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہو جائے، نیز طبائع بشری میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظاہر ہو جائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ ﴿ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَ٘ــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ آپ کے رب کی وہ بات پوری ہو جائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ مَن رَحِمَ ربُّك}: فهداهم إلى العلم بالحقِّ والعمل به والاتفاق عليه؛ فهؤلاء سبقت لهم سابقةُ السعادة وتداركتْهم العنايةُ الربَّانية والتوفيق الإلهيُّ، وأما من عداهم؛ فهم مخذولون مَوْكولون إلى أنفسهم. وقوله: {ولذلك خَلَقَهم}؛ أي: اقتضت حكمته أنَّه خلقهم ليكون منهم السعداء والأشقياء والمتفقون والمختلفون والفريق الذي هدى الله والفريق الذي حقت عليهم الضلالة؛ ليتبيَّن للعباد عدلُه وحكمتُه، وليُظْهِر ما كمن في الطباع البشرية من الخير والشرِّ، وليقوم سوقُ الجهاد والعبادات التي لا تتمُّ ولا تستقيم إلا بالامتحان والابتلاء، {و} لأنَّه {تمَّتْ كلمةُ ربِّك لأملأنَّ جهنَّم من الجِنَّة والناس أجمعينَ}: فلا بدَّ أن ييسِّر للنار أهلاً يعملون بأعمالها الموصلة إليها.