(آیت 117){وَمَاكَانَرَبُّكَلِيُهْلِكَ …:} یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہو گا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک اسی وقت کرتا ہے جب وہ حد سے بڑھ کر زمین میں فساد پھیلانے لگیں، مگر پہلا معنی زیادہ درست ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
117۔ اور آپ کے پروردگار کے یہ شایان نہیں کہ وہ بستیوں کو ناحق [130] تباہ کر دے حالانکہ وہاں کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں
[130] اہل خیر کی موجودگی میں اللہ کا عذاب نہیں آتا:۔
یعنی ایسی صورت میں کبھی عذاب نہیں آتا کہ اس قوم میں اہل خیر موجود بھی ہوں اور وہ اصلاح کی کوششوں میں بھی لگے ہوں۔ خواہ وہ تھوڑے ہی ہوں ایسے لوگوں کی وجہ سے مجرم بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔ عذاب تو صرف اس وقت آتا ہے جب سر تا سر برائی پھیل جائے، کیونکہ اللہ کو خواہ مخواہ لوگوں کو عذاب دینے کا شوق نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭
یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا «وَلْتَكُنمِّنكُمْأُمَّةٌيَدْعُونَإِلَىالْخَيْرِوَيَأْمُرُونَبِالْمَعْرُوفِوَيَنْهَوْنَعَنِالْمُنكَرِوَأُولَـٰئِكَهُمُالْمُفْلِحُونَ»۱؎[3-آل عمران:104] ’ بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیئے ‘، الخ۔ ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَاظَلَمْنَاهُمْوَلَـٰكِنظَلَمُواأَنفُسَهُمْ»۱؎[11-ھود:101] ’ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَارَبُّكَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِيدِ»۱؎[41-فصلت:46] ’ تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا درآں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں، یعنی وہ درست رویے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہو جائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وما كان الله ليهلك القرى بظُلم منه لهم والحالُ أنَّهم {مصلحون}؛ أي: مقيمون على الصلاح مستمرون عليه؛ فما كان الله ليهلكهم إلا إذا ظلموا، وقامت عليهم حجَّة الله.
ويُحتمل أنَّ المعنى: وما كان ربُّك لِيُهْلِكَ القرى بظلمهم السابق إذا رجعوا وأصلحوا عملهم؛ فإنَّ الله يعفو عنهم، ويمحو ما تقدَّم من ظلمهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔