پس تو اس کے بارے میں جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں، کسی شک میں نہ رہ، یہ لوگ عبادت نہیں کرتے مگر جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور بے شک ہم یقینا انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے والے ہیں، جس میں کوئی کمی نہ کی گئی ہو گی۔
En
تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں
اس لئے آپ ان چیزوں سے شک وشبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے: ﴿ فَلَاتَكُفِیْمِرْیَةٍمِّؔمَّایَعْبُدُهٰۤؤُلَآءِ﴾”آپ ان معبودان باطل کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیں جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں “ یعنی آپ کو ان کے حال کے بارے میں کوئی شک نہ رہے وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ باطل ہے اور ان کے پاس کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ ان کی دلیل اور شبہ تو بس یہ ہے کہ وہ ﴿ مَایَعْبُدُوْنَاِلَّاكَمَایَعْبُدُاٰبَآؤُهُمْمِّنْقَبْلُ﴾”یہ انھی کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے“ اور یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا ان باطل معبودوں کی عبادت کرنا، دلیل ہونا تو کجا یہ تو شبہ کے زمرے میں بھی نہیں آتا کیونکہ انبیاء کے سوا کسی کا قول حجت نہیں۔ خاص طور پر ان جیسے گمراہ لوگ، جو اصول دین میں بکثرت اغلاط اور فساد اقوال کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اقوال اگرچہ وہ ان کے ہاں متفق علیہ کیوں نہ ہوں، خطا اور ضلالت پر مبنی ہیں۔ ﴿ وَاِنَّالَمُوَفُّوْهُمْنَصِیْبَهُمْغَیْرَمَنْقُوْصٍ ﴾”اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ، بغیر کمی کیے“ یعنی وہ لازمی طور پر دنیا کے حصے سے بہرہ ور ہوں گے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ خواہ یہ دنیاوی نصیب آپ کی نظر میں کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر یہ ان کے احوال کے درست ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی دنیا عطا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے محبت نہیں کرتا مگر ایمان اور دین سے صرف اسی شخص کو نوازتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کے اپنے گمراہ آباء و اجداد کے نظریات پر اتفاق کر لینے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور نہ اس بات سے دھوکہ کھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیاوی مال و متاع سے نواز رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله تعالى لرسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فلا تكُ في مِرْيَةٍ ممَّا يعبدُ هؤلاء}: المشركون؛ أي: لا تشكَّ في حالهم، وأنَّ ما هم عليه باطلٌ؛ فليس لهم دليلٌ شرعيٌّ ولا عقليٌّ، وإنما دليلُهم وشبهتهم أنهم يعبُدون كما يعبُدُ آباؤهم من قبلُ، ومن المعلوم أن هذا ليس بشبهةٍ فضلاً عن أن يكون دليلاً؛ لأنَّ أقوال ما عدا الأنبياء يحتجُّ لها لا يحتج بها، خصوصاً أمثال هؤلاء الضالين، الذين كثر خطؤهم وفساد أقوالهم في أصول الدين؛ فإنَّ أقوالهم وإن اتَّفقوا عليها؛ فإنَّها خطأ وضلال {وإنَّا لَمُوفُّوهم نصيبَهم غير منقوص}؛ أي: لا بدَّ أن ينالهم نصيبُهم من الدُّنيا مما كتب لهم، وإن كَثُر ذلك النصيب أو راق في عينك؛ فإنَّه لا يدلُّ على صلاح حالهم؛ فإنَّ الله يعطي الدُّنيا من يحبُّ ومن لا يحبُّ، ولا يعطي الإيمان والدين الصحيح إلاَّ من يُحِبُّ. والحاصلُ أنَّه لا يُغترُّ باتفاق الضالين على قول الضالين من آبائهم الأقدمين، ولا على ما خوَّلهم الله، وآتاهم من الدنيا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔