تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 108

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ سُعِدُوۡا فَفِی الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴿۱۰۸﴾
اور رہ گئے وہ جو خوش قسمت بنائے گئے تو وہ جنت میں ہوں گے، ہمیشہ اس میں رہنے والے، جب تک سارے آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے۔ ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔ En
اور جو نیک بخت ہوں گے، وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کئے جائیں گے (اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ یہ (خدا کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی
En
لیکن جو نیک بخت کئے گئے وه جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان وزمین باقی رہے مگر جو تیرا پروردگار چاہے۔ یہ بے انتہا بخشش ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا اور جو نیک بخت ہوں گے۔ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَ٘فِی الْجَنَّةِ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ بخشش بے انتہا یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأما الذين سُعِدوا}؛ أي: حصلت لهم السعادة والفلاح والفوز، {ففي الجنَّة خالدين فيها ما دامت السمواتُ والأرض إلاَّ ما شاء ربُّك}: ثمَّ أكَّد ذلك بقوله: {عطاءً غير مجذوذٍ}؛ أي: ما أعطاهم الله من النعيم المقيم واللَّذة العالية؛ فإنَّه دائمٌ مستمرٌّ غير منقطع بوقت من الأوقات. نسأل الله الكريم من فضله.