تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ:” اٰبَآؤُهُمْ “} سے مراد عادوثمود ہیں، کیونکہ عدنانی عربوں کی ماں بنوجرہم سے تھی جو اسماعیل علیہ السلام کی بیوی تھی۔ بنو جرہم ثمود سے تھے اور قریش کی ماں بنو خزاعہ سے تھی، جو قُصی کی بیوی تھی اور عرب میں بت پرستی عمرو بن لحی نے شروع کی تھی جو خزاعی تھا۔ (ابن عاشور) یعنی ان کی غیر اللہ کی پرستش کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) آبا و اجداد کی غیر اللہ کی عبادت کیا تھی؟ یہی کہ وہ اپنے بزرگوں یا ان کے بتوں یا قبروں کو مصیبت کے وقت پکارتے تھے، انھیں اللہ کا بیٹا یا جز یا عین قرار دیتے تھے۔ اسی طرح عبادت میں ان کے نام کی نذر و نیاز ماننا، اللہ کے حصے کے ساتھ جانوروں اور کھیتیوں میں ان کا حصہ رکھنا، ان کو اللہ کی صفات، مثلاً علم غیب کا مالک، دور سے فریاد سننے اور مدد کرنے والا سمجھنا سبھی شامل ہیں۔ ہر زمانے کے مشرک ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں: «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ }» [المؤمنون: ۸۱] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اور ان کے پاس تقلیدِ آباء کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی اور ان پر وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ {”مَا أَشْبَهَ اللَّيْلَةَ بِالْبَارِحَةِ “} ”آج کی رات کل کی رات کے کس قدر مشابہ ہے۔“
➌ { وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ:} انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ کسی شخص کی تقدیر میں دنیا کا جو رزق اور آسائشیں لکھی گئی ہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر اسے ملیں گی، کافروں کو بھی ان کا حصہ پورا ملے گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۲۰) دوسری یہ کہ ان کی نیکیاں جو انھوں نے دنیا میں کی ہیں ان کا پورا بدلہ ہم انھیں دنیا ہی میں دے دیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۲۰) اور تیسری یہ کہ ہم ان کی غیر اللہ کی عبادت اور شرک کا پورا پورا بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن ضرور دینے والے ہیں۔ یہاں یہ آخری معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے پہلی قوموں کی طرح دنیا میں آسمانی عذاب نہیں دیا گیا، جس سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» ۱؎ [20-طه:129-130] ’ چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره ‘۔
کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله تعالى لرسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فلا تكُ في مِرْيَةٍ ممَّا يعبدُ هؤلاء}: المشركون؛ أي: لا تشكَّ في حالهم، وأنَّ ما هم عليه باطلٌ؛ فليس لهم دليلٌ شرعيٌّ ولا عقليٌّ، وإنما دليلُهم وشبهتهم أنهم يعبُدون كما يعبُدُ آباؤهم من قبلُ، ومن المعلوم أن هذا ليس بشبهةٍ فضلاً عن أن يكون دليلاً؛ لأنَّ أقوال ما عدا الأنبياء يحتجُّ لها لا يحتج بها، خصوصاً أمثال هؤلاء الضالين، الذين كثر خطؤهم وفساد أقوالهم في أصول الدين؛ فإنَّ أقوالهم وإن اتَّفقوا عليها؛ فإنَّها خطأ وضلال {وإنَّا لَمُوفُّوهم نصيبَهم غير منقوص}؛ أي: لا بدَّ أن ينالهم نصيبُهم من الدُّنيا مما كتب لهم، وإن كَثُر ذلك النصيب أو راق في عينك؛ فإنَّه لا يدلُّ على صلاح حالهم؛ فإنَّ الله يعطي الدُّنيا من يحبُّ ومن لا يحبُّ، ولا يعطي الإيمان والدين الصحيح إلاَّ من يُحِبُّ. والحاصلُ أنَّه لا يُغترُّ باتفاق الضالين على قول الضالين من آبائهم الأقدمين، ولا على ما خوَّلهم الله، وآتاهم من الدنيا.