تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ خٰؔلِدِیْنَفِیْهَا ﴾”وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَادَامَتِالسَّمٰوٰتُوَالْاَرْضُاِلَّامَاشَآءَرَبُّكَ﴾”جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب“ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّرَبَّكَفَعَّالٌلِّمَایُرِیْدُ ﴾”بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے“ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{خالدين فيها}؛ أي: في النار التي هذا عذابُها، {ما دامتِ السمواتُ والأرضُ إلاَّ ما شاء ربُّك}؛ أي: خالدين فيها أبداً إلاَّ المدَّة التي شاء الله أن لا يكونوا فيها، وذلك قبل دخولها؛ كما قاله جمهور المفسرين؛ فالاستثناء على هذا راجعٌ إلى ما قبل دخولها؛ فهم خالدون فيها جميع الأزمان سوى الزمن الذي قبل الدخول فيها. {إنَّ ربَّك فعَّالٌ لما يريد}: فكل ما أراد فعله واقتضته حكمتُه؛ فَعَلَه تبارك وتعالى، لا يردُّه أحدٌ عن مُراده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔