تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 107

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿۱۰۷﴾
ہمیشہ اس میں رہنے والے، جب تک سارے آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے۔ بے شک تیرا رب کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔ En
(اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں، اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے
En
وه وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں۔ سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے۔ یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خالدين فيها}؛ أي: في النار التي هذا عذابُها، {ما دامتِ السمواتُ والأرضُ إلاَّ ما شاء ربُّك}؛ أي: خالدين فيها أبداً إلاَّ المدَّة التي شاء الله أن لا يكونوا فيها، وذلك قبل دخولها؛ كما قاله جمهور المفسرين؛ فالاستثناء على هذا راجعٌ إلى ما قبل دخولها؛ فهم خالدون فيها جميع الأزمان سوى الزمن الذي قبل الدخول فيها. {إنَّ ربَّك فعَّالٌ لما يريد}: فكل ما أراد فعله واقتضته حكمتُه؛ فَعَلَه تبارك وتعالى، لا يردُّه أحدٌ عن مُراده.