تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَمَّاالَّذِیْنَشَقُوْا﴾”تو جو بدبخت ہوں گے۔“ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَ٘فِیالنَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمْفِیْهَا”ان کے لیے اس میں “ یعنی اس سختی کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ ﴿ زَفِیْرٌوَّشَهِیْقٌ ﴾”چیخنا ہے اور دھاڑنا“ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما جزاؤهم: {فأما الذين شَقُوا}؛ أي: حصلت لهم الشقاوة والخزي والفضيحة {ففي النار}: منغمسون في عذابها مشتدٌّ عليهم عقابها. {لهم فيها}: من شدَّة ما هم فيه {زفيرٌ وشهيقٌ}: وهو أشنع الأصوات وأقبحُها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔