تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 106

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ شَقُوۡا فَفِی النَّارِ لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ شَہِیۡقٌ ﴿۱۰۶﴾ۙ
تو وہ جو بدبخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے۔ En
تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا
En
لیکن جو بدبخت ہوئے وه دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا تو جو بدبخت ہوں گے۔ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَ٘فِی النَّارِ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمْ فِیْهَاان کے لیے اس میں یعنی اس سختی کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ ﴿ زَفِیْرٌ وَّشَهِیْقٌ چیخنا ہے اور دھاڑنا اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما جزاؤهم: {فأما الذين شَقُوا}؛ أي: حصلت لهم الشقاوة والخزي والفضيحة {ففي النار}: منغمسون في عذابها مشتدٌّ عليهم عقابها. {لهم فيها}: من شدَّة ما هم فيه {زفيرٌ وشهيقٌ}: وهو أشنع الأصوات وأقبحُها.