تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَوْمَیَ٘اْتِ ﴾”جس روز وہ آجائے گا۔“ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَاتَكَلَّمُنَ٘فْ٘سٌاِلَّابِـاِذْنِهٖ﴾”اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا“ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنْهُمْ ﴾”پس ان میں سے بعض“ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَ٘قِیٌّوَّسَعِیْدٌ ﴾”بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں “ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يومَ يأتِ}: ذلك اليومُ ويجتمعُ الخلق، {لا تَكَلَّمُ نفسٌ إلا بإذنِهِ}: حتى الأنبياء والملائكة الكرام لا يشفعون إلا بإذنِهِ. {فمنهم}؛ أي: الخلق {شقيٌّ وسعيدٌ}: فالأشقياء هم الذين كفروا بالله، وكذَّبوا رسله وعَصَوا أمره، والسعداء هم المؤمنون المتَّقون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔