تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 105

یَوۡمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّ سَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔ En
جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
En
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَوْمَ یَ٘اْتِ جس روز وہ آجائے گا۔ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَ٘فْ٘سٌ اِلَّا بِـاِذْنِهٖ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنْهُمْ پس ان میں سے بعض یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَ٘قِیٌّ وَّسَعِیْدٌ بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يومَ يأتِ}: ذلك اليومُ ويجتمعُ الخلق، {لا تَكَلَّمُ نفسٌ إلا بإذنِهِ}: حتى الأنبياء والملائكة الكرام لا يشفعون إلا بإذنِهِ. {فمنهم}؛ أي: الخلق {شقيٌّ وسعيدٌ}: فالأشقياء هم الذين كفروا بالله، وكذَّبوا رسله وعَصَوا أمره، والسعداء هم المؤمنون المتَّقون.