تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 104

وَ مَا نُؤَخِّرُہٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴿۱۰۴﴾ؕ
اور ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے، مگر ایک گنے ہوئے وقت کے لیے۔ En
اور ہم اس کے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں
En
اسے ہم جو ملتوی کرتے ہیں وه صرف ایک مدت معین تک ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا نُؤَخِّ٘رُهٗۤ ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ مگر وقت مقرر کے لیے یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما نؤخِّرُه}؛ أي: إتيان يوم القيامة، {إلاَّ لأجل مَعْدودٍ}: إذا انقضى أجل الدُّنيا، وما قدر الله فيها من الخلق؛ فحينئذٍ ينقلهم إلى الدار الأخرى، ويُجري عليهم أحكامه الجزائيَّة، كما أجرى عليهم في الدُّنيا أحكامه الشرعيَّة.