تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 100

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیۡکَ مِنۡہَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیۡدٌ ﴿۱۰۰﴾
یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم تجھے بیان کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں۔ En
یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا
En
بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبـَآءِ الْ٘قُ٘رٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنْهَا قَآىِٕمٌ ان میں سے بعض تو باقی ہیں۔ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ وَ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِیْدٌ ان کی جڑ کٹ گئی یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر قصص هؤلاء الأمم مع رسلهم؛ قال الله تعالى لرسوله: {ذلك من أنباءِ القُرى نقصُّه عليك}: لتنذر به ويكونَ آية على رسالتك وموعظةً وذكرى للمؤمنين. {منها قائمٌ}: لم يتلفْ بل بقي من آثار ديارهم ما يدلُّ عليهم. {و} منها {حصيدٌ}: قد تهدَّمت مساكنهم، واضمحلَّت منازلهم فلم يبقَ لها أثرٌ.