(آیت 100) {ذٰلِكَمِنْاَنْبَآءِالْقُرٰى …: ”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی گزشتہ بستیوں کی یہ چند خبریں ہیں جو ہم آپ کو بیان کر رہے ہیں۔ اس سورت میں انبیاء کے حالات زمانے کی ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، یعنی نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ علیھم السلام۔{ ”قَآىِٕمٌ“} کھڑی (کھیتی)، {”حَصِيْدٌ“ } وہ کھیتی جو کاٹی جا چکی ہو، یعنی ان بستیوں میں سے بعض کے نشانات اب بھی قائم ہیں، مثلاً صالح علیہ السلام کی قوم کے پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات اور بعض کے نام و نشان تک مٹ چکے ہیں، جیسے کٹی ہوئی کھیتی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 قائم سے مراد وہ بستیاں، جو اپنی چھتوں پر قائم ہیں اور حَصِیْد بمعنی محصود سے مراد وہ بستیاں جو کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح نابود ہوگئیں۔ یعنی جن گزشتہ بستیوں کے واقعات ہم بیان کر رہے ہیں، ان میں سے بعض تو اب بھی موجود ہیں، جن کے آثار و کھنڈرات نشان عبرت ہیں اور بعض بالکل ہی صفہ ہستی سے معدوم ہوگئیں اور ان کا وجود صرف تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ یہ ان بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو موجود ہیں اور کچھ اجڑ چکی ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران ٭٭
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں، جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کر لی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آ سکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کر دیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَمِنْاَنْۢبـَآءِالْ٘قُ٘رٰىنَقُصُّهٗعَلَیْكَ ﴾”یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں “ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنْهَاقَآىِٕمٌ ﴾”ان میں سے بعض تو باقی ہیں۔“ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِیْدٌ ﴾”ان کی جڑ کٹ گئی“ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر قصص هؤلاء الأمم مع رسلهم؛ قال الله تعالى لرسوله: {ذلك من أنباءِ القُرى نقصُّه عليك}: لتنذر به ويكونَ آية على رسالتك وموعظةً وذكرى للمؤمنين. {منها قائمٌ}: لم يتلفْ بل بقي من آثار ديارهم ما يدلُّ عليهم. {و} منها {حصيدٌ}: قد تهدَّمت مساكنهم، واضمحلَّت منازلهم فلم يبقَ لها أثرٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔