تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿كَلَّالَیُنْۢبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِیالْحُطَمَةِٞۖ۰۰وَمَاۤاَدْرٰىكَمَاالْحُطَمَةُ﴾”حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ”یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿نَارُاللّٰهِالْمُوْقَدَةُ﴾”وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔“ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِیْ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَ٘طَّ٘لِعُعَلَىالْاَفْـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{كلاَّ لَيُنبَذَنَّ}؛ أي: ليطرحنَّ {في الحُطَمَةِ. وما أدراك ما الحُطَمَةُ}: تعظيمٌ لها وتهويلٌ لشأنها. ثم فسَّرها بقوله: {نار الله الموقَدة}: التي وقودها الناس والحجارة، {التي}: من شدَّتها {تطَّلع على الأفئدة}؛ أي: تنفذ من الأجسام إلى القلوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔