تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَحْسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّمَالَهٗۤاَخْلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يحسبُ}: بجهله {أنَّ ماله أخْلَدَهُ}: في الدُّنيا، فلذلك كان كدُّه وسعيه [كلُّه] في تنمية ماله، الذي يظنُّ أنَّه ينمي عمره، ولم يدرِ أن البخل يقصف الأعمار ويخرب الديار، وأن البرَّ يزيد في العمر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔