تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكاثر (102) — آیت 7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾
پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ En
پھر اس کو (ایسا) دیکھو گے (کہ) عین الیقین (آ جائے گا)
En
اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الْ٘مُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا (الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثمَّ لَتَرَوُنَّها عين اليقين}؛ أي: رؤيةً بصريةً؛ كما قال تعالى: {ورأى المجرمون النَّارَ فظَنُّوا أنَّهم مُواقِعوها ولمْ يَجِدوا عنها مَصْرِفاً}.