تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّلَـتَرَوُنَّهَاعَیْنَالْیَقِیْنِ﴾” پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔“ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَالْ٘مُجْرِمُوْنَالنَّارَفَظَنُّوْۤااَنَّهُمْمُّوَاقِعُوْهَاوَلَمْیَجِدُوْاعَنْهَامَصْرِفًا﴾ (الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثمَّ لَتَرَوُنَّها عين اليقين}؛ أي: رؤيةً بصريةً؛ كما قال تعالى: {ورأى المجرمون النَّارَ فظَنُّوا أنَّهم مُواقِعوها ولمْ يَجِدوا عنها مَصْرِفاً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔