تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكاثر (102) — آیت 8

ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾
پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔ En
پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی
En
پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ لَ٘تُ٘سْـَٔلُ٘نَّ یَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔
یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰؔتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ (الاحقاف:46؍20) جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم لَتُسْألُنَّ يومئذٍ عن النَّعيم}: الذي تنعَّمتم به في دار الدُّنيا؛ هل قمتم بشكره، وأدَّيتم حقَّ الله فيه، ولم تستعينوا به على معاصيه؛ فينعِّمكم نعيماً أعلى منه وأفضل؟ أم اغتررتُم به، ولم تقوموا بشكره، بل ربَّما استعنتم به على المعاصي ؛ فيعاقبكم على ذلك؟ قال تعالى: {ويومَ يُعْرَضُ الذين كفروا على النارِ أذْهَبْتُم طيباتِكم في حياتكم الدُّنيا واستمتعتم بها فاليوم تُجْزَوْنَ عذاب الهُونِ ... } الآية.