ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكاثر (102) — آیت 7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾
پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ En
پھر اس کو (ایسا) دیکھو گے (کہ) عین الیقین (آ جائے گا)
En
اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 پہلا دیکھنا دور سے ہوگا یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ پھر (سن لو) کہ تم اسے آنکھوں دیکھے یقین کے ساتھ [5] دیکھ لو گے۔
[5] دوزخ کے آثار تو تم مرنے کے فوراً بعد دیکھ لو گے۔ پھر جب قیامت کے دن تم میدان محشر میں اکٹھے کیے جاؤ گے تو پھر اسے اپنی آنکھوں سے یوں دیکھ لو گے کہ تمہیں اس کے یقینی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الْ٘مُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا (الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثمَّ لَتَرَوُنَّها عين اليقين}؛ أي: رؤيةً بصريةً؛ كما قال تعالى: {ورأى المجرمون النَّارَ فظَنُّوا أنَّهم مُواقِعوها ولمْ يَجِدوا عنها مَصْرِفاً}.