تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالْ٘عِهْنِالْ٘مَنْفُوْشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَتَرَىالْجِبَالَتَحْسَبُهَاجَامِدَةًوَّهِیَتَمُرُّمَرَّالسَّحَابِ ﴾ (النمل:27؍88) ”اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔“ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما الجبال الصمُّ الصلابُ؛ فتكون {كالعهنِ المنفوشِ}؛ أي: كالصُّوف المنفوش الذي بقي ضعيفاً جدًّا تطير به أدنى ريح؛ قال تعالى: {وترى الجبال تحسبُها جامدةً وهي تمرُّ مرَّ السحابِ}، ثم بعد ذلك تكون هباءً منثوراً، فتضمحلُّ ولا يبقى منها شيءٌ يشاهَد. فحينئذٍ تُنْصَبُ الموازينُ، وينقسم الناس قسمين: سعداء وأشقياء:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔