تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القارعة (101) — آیت 6

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾
تو لیکن وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہو گئے۔ En
تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے
En
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوازينُه}؛ أي: رجحت حسناتُه على سيئاتِه، {فهو في عيشةٍ راضيةٍ}: في جنَّات النعيم.