تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَوْمَیَكُوْنُالنَّاسُ ﴾” جس دن ہوجائیں گے لوگ۔“ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالْ٘فَرَاشِالْمَبْثُوْثِ ﴾”بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔“ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يومَ يكونُ الناسُ}: من شدَّة الفزع والهول، {كالفراشِ المبثوثِ}؛ أي: كالجراد المنتشر الذي يموج بعضه في بعض، والفراش هي الحيوانات التي تكون في الليل يموج بعضها ببعض، لا تدري أين توجَّه؛ فإذا أوقد لها نارٌ؛ تهافتت إليها لضعف إدراكها، فهذه حال الناس أهل العقول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔