تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَثَرْنَبِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقْعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطْنَبِهٖ﴾” پھر جاگھستے ہیں۔“ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمْعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔