تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العاديات (100) — آیت 4

فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا ۙ﴿۴﴾
پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ En
پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں
En
پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَثَرْنَ بِهٖ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقْعًا غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطْنَ بِهٖ پھر جاگھستے ہیں۔ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمْعًا دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ، {نقعاً}؛ أي: غباراً، {فوسطن به}؛ أي: براكبهنَّ {جمعاً}؛ أي: توسطن به جموع الأعداء الذين أغار عليهم.