أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ پھر ان کی جو غبار اڑاتے [4] ہیں
[4]﴿تردّي﴾﴿ردي﴾ بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہو جائے اور ﴿تردي﴾ کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گر پڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہو گا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَثَرْنَبِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقْعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطْنَبِهٖ﴾” پھر جاگھستے ہیں۔“ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمْعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔