تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 93

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا، اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا، پھر انھوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا
En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزه چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا۔ یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وه اختلاف کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھروں کا مالک بنا دیا۔(تاریخی طورپر یہ بات صحیح نہیں۔ بنو اسرائیل مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے۔ اس سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جہاں بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد غلبہ و تمکن حاص ہوا۔ (ص۔ى) ﴿ وَّرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰؔتِ اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں مطعومات اور مشروبات وغیرہ ﴿ فَمَا اخْتَلَفُوْا پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی یعنی حق کے بارے میں ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ حتیٰ کہ ان کے پاس علم آ گیا جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ یَقْ٘ضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ بے شک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، تمھارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے، قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہی وہ بیماری ہے، جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے، تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں، پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
ورنہ جب ان کا رب ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں، پھر کس لیے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں، ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں، ان کے نظم اور ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہو جاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہو جاتے ہیں۔
اے اللہ! ہم تیرے مومن بندوں کے لیے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں، جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے، جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے، جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے... یا ذالجلال والاکرام۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد بوَّأنا بني إسرائيل مُبَوَّأ صِدْقٍ}؛ أي: أنزلهم الله وأسكنهم في مساكن آل فرعون، وأورثهم أرضهم وديارهم، {ورزقناهم من الطيِّباتِ}: من المطاعم والمشارب وغيرهما، {فما اختلفوا}: في الحقِّ {حتَّى جاءهم العلمُ}: الموجب لاجتماعهم وائتلافهم، ولكن بغى بعضهم على بعضٍ، وصار لكثيرٍ منهم أهوية وأغراض تخالف الحقَّ، فحصل بينهم من الاختلاف شيء كثيرٌ. {إنَّ ربَّك يقضي بينَهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون}: بحكمه العدل الناشئ عن علمه التامِّ وقدرته الشاملة.

وهذا هو الداء الذي يعرض لأهل الدين الصحيح، وهو أنَّ الشيطان إذا أعجزوه أن يطيعوه في ترك الدين بالكلِّيَّة، سعى في التحريش بينهم وإلقاء العداوة والبغضاء، فحصل من الاختلاف ما هو موجبُ ذلك، ثم حصل من تضليل بعضهم لبعضٍ وعداوة بعضهم لبعض ما هو قرَّة عين اللعين، وإلا؛ فإذا كان ربُّهم واحداً ورسولهم واحداً ودينهم واحداً ومصالحهم العامة متَّفقة؛ فلأيِّ شيء يختلفون اختلافاً يفرِّق شملهم ويشتِّت أمرهم ويَحُلُّ رابطتهم ونظامهم فيفوِّتُ من مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة ما يفوِّت ويموت من دينهم بسبب ذلك ما يموت؟! فنسألك اللهمَّ لطفاً بعبادك المؤمنين، يجمع شملهم، ويرأبُ صدعَهم، ويردُّ قاصِيَهم على دانيهم يا ذا الجلال والإكرام!