تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا }» [البقرۃ: ۸۹] ”حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔“ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کر لیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیتوں میں ہے، باوجود اس کے خلیل الرحمن علیہ السلام کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہوں نے اپنے پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کرگئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر موسیٰ علیہ السلام کا۔ ان کے بعد یہ یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔
«وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [4-النساء:158] ’ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے ‘۔
عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطیس نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر و فریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کر کے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔ اس نے کلیسا، گرجے، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بیچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کردیا۔
اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہونے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی۔ ایک دو نہیں بہتر (۷۲) فرقے قائم ہو گئے۔
اللہ اپنے رسول علیہ السلام پر درود سلام نازل فرمائے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ { میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے }۔ پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟ فرمایا: { وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] اللہ فرماتا ہے ’ ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد بوَّأنا بني إسرائيل مُبَوَّأ صِدْقٍ}؛ أي: أنزلهم الله وأسكنهم في مساكن آل فرعون، وأورثهم أرضهم وديارهم، {ورزقناهم من الطيِّباتِ}: من المطاعم والمشارب وغيرهما، {فما اختلفوا}: في الحقِّ {حتَّى جاءهم العلمُ}: الموجب لاجتماعهم وائتلافهم، ولكن بغى بعضهم على بعضٍ، وصار لكثيرٍ منهم أهوية وأغراض تخالف الحقَّ، فحصل بينهم من الاختلاف شيء كثيرٌ. {إنَّ ربَّك يقضي بينَهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون}: بحكمه العدل الناشئ عن علمه التامِّ وقدرته الشاملة.
وهذا هو الداء الذي يعرض لأهل الدين الصحيح، وهو أنَّ الشيطان إذا أعجزوه أن يطيعوه في ترك الدين بالكلِّيَّة، سعى في التحريش بينهم وإلقاء العداوة والبغضاء، فحصل من الاختلاف ما هو موجبُ ذلك، ثم حصل من تضليل بعضهم لبعضٍ وعداوة بعضهم لبعض ما هو قرَّة عين اللعين، وإلا؛ فإذا كان ربُّهم واحداً ورسولهم واحداً ودينهم واحداً ومصالحهم العامة متَّفقة؛ فلأيِّ شيء يختلفون اختلافاً يفرِّق شملهم ويشتِّت أمرهم ويَحُلُّ رابطتهم ونظامهم فيفوِّتُ من مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة ما يفوِّت ويموت من دينهم بسبب ذلك ما يموت؟! فنسألك اللهمَّ لطفاً بعبادك المؤمنين، يجمع شملهم، ويرأبُ صدعَهم، ويردُّ قاصِيَهم على دانيهم يا ذا الجلال والإكرام!