پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عظیم نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔
En
تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَالْیَوْمَنُنَجِّیْكَبِبَدَنِكَلِتَكُوْنَلِمَنْخَلْفَكَاٰیَةً﴾”پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو“ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انھیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انھیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے تاکہ وہ لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ ﴿ وَاِنَّكَثِیْرًامِّنَالنَّاسِعَنْاٰیٰتِنَالَغٰفِلُوْنَ ﴾”اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بے خبر ہیں “ بنابریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکرار ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان امور پر سب سے بڑی دلیل ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاليوم ننجِّيك ببدنِكَ لتكون لمن خلفك آيةً}: قال المفسِّرون: إنَّ بني إسرائيل لما في قلوبهم من الرعب العظيم من فرعون، كأنَّهم لم يصدِّقوا بإغراقه، وشكُّوا في ذلك، فأمر الله البحر أن يلقِيَهُ على نجوة مرتفعةٍ ببدنه؛ ليكون لهم عبرة وآية. {وإنَّ كثيراً من الناس عن آياتنا لغافلون}: فلذلك تمرُّ عليهم وتتكرَّر فلا ينتفعون بها؛ لعدم إقبالهم عليها، وأما من له عقلٌ وقلبٌ حاضر؛ فإنَّه يرى من آيات الله ما هو أكبر دليل على صحَّة ما أخبرت به الرسل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔