اور تو نہ کسی حال میں ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے (آنے والے) قرآن میں سے کچھ پڑھتا ہے اور نہ تم کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں، جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور تیرے رب سے کوئی ذرہ برابر (چیز) نہ زمین میں غائب ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔
En
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عمومی مشاہدہ کے بارے میں خبر دیتا ہے، نیز وہ فرماتا ہے کہ وہ بندوں کے تمام احوال اور ان کی حرکات و سکنات سے آگاہ ہے اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انھیں دائمی مراقبہ کی دعوت دیتا ہے۔ فرمایا ﴿ وَمَاتَكُوْنُفِیْشَاْنٍ ﴾”اور تم جس حال میں ہوتے ہو۔“ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی احوال میں سے جس حال میں بھی ہوتے ہیں۔ ﴿ وَّمَاتَتْلُوْامِنْهُمِنْقُ٘رْاٰنٍ ﴾”یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو۔“ یعنی آپ قرآن میں سے جو کچھ تلاوت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ﴿ وَّلَاتَعْمَلُوْنَمِنْعَمَلٍ ﴾”اور جو بھی عمل آپ کرتے ہیں “ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا عمل۔ ﴿ اِلَّاكُنَّاعَلَیْكُمْشُ٘هُوْدًااِذْتُفِیْضُوْنَفِیْهِ﴾”مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں “ یعنی تمھارے کام شروع کرنے اور اس کام میں تمھارے استمرار کے وقت، لہٰذا اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کو مدنظر رکھو اور تمام اعمال کو خیر خواہی اور خوب کوشش سے بجا لاؤ۔ جو امور اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ان سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام باطنی اور ظاہری امور سے آگاہ ہے۔
﴿ وَمَایَعْزُبُعَنْرَّبِّكَ﴾”اور نہیں غائب رہتا آپ کے رب سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم، اس کے سمع و بصر اور اس کے مشاہدہ سے باہر نہیں۔ ﴿ مِنْمِّؔثْقَالِذَرَّةٍفِیالْاَرْضِوَلَافِیالسَّمَآءِوَلَاۤاَصْغَرَمِنْذٰلِكَوَلَاۤاَكْبَرَاِلَّافِیْؔكِتٰبٍمُّبِیْنٍ ﴾”ایک ذرہ بھر، زمین میں نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے۔ یہ دونوں مراتب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مراتب ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکثر ان کو مقرون بیان کیا ہے۔
۱۔ تمام اشیاء کا احاطہ کرنے والا علم الٰہی۔
۲۔ تمام حوادث کا احاطہ کرنے والی تقدیر (کتاب) الٰہی۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اَلَمْتَعْلَمْاَنَّاللّٰهَیَعْلَمُمَافِیالسَّمَآءِوَالْاَرْضِ١ؕاِنَّذٰلِكَفِیْؔكِتٰبٍ١ؕاِنَّذٰلِكَعَلَىاللّٰهِیَسِیْرٌ﴾ (الحج: 22؍70) ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب کچھ کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور بے شک یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عموم مشاهدته واطِّلاعه على جميع أحوال العباد في حركاتهم وسَكَناتهم، وفي ضمن هذا الدعوة لمراقبته على الدوام، فقال: {وما تكونُ في شأنٍ}؛ أي: حال من أحوالك الدينيَّة والدنيويَّة، {وما تتلو منه من قرآنٍ}؛ أي: وما تتلو من القرآن الذي أوحاه الله إليك، {ولا تعملون من عمل}: صغيرٍ أو كبيرٍ، {إلاَّ كنَّا عليكم شهوداً إذ تُفيضون فيه}؛ أي: وقت شروعكم فيه واستمراركم على العمل به، فراقبوا الله في أعمالكم، وأدُّوها على وجه النصيحة والاجتهاد فيها، وإيَّاكم وما يَكره الله تعالى؛ فإنه مطَّلع عليكم عالمٌ بظواهركم وبواطنكم. {وما يعزُبُ عن ربِّك}؛ أي: ما يُغابُ عن علمه وسمعه وبصره ومشاهدته {من مثقال ذرَّةٍ في الأرض ولا في السماء ولا أصغرَ من ذلك ولا أكبرَ إلا في كتابٍ مُبين}؛ أي: قد أحاط به علمُه وجرى به قلمُه. وهاتان المرتبتان من مراتب القضاء والقدر كثيراً ما يُقرِنُ الله بينهما، وهما العلم المحيط بجميع الأشياء وكتابته المحيطة بجميع الحوادث؛ كقوله تعالى: {ألم تَعْلَمْ أنَّ الله يعلمُ ما في السماء والأرض إنَّ ذلك في كتابٍ إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔