اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے دن میں؟ بے شک اللہ تو لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔
En
اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاظَ٘نُّالَّذِیْنَیَفْتَرُوْنَعَلَىاللّٰهِالْكَذِبَیَوْمَالْقِیٰمَةِ﴾”اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن“ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَیَوْمَالْقِیٰمَةِتَرَىالَّذِیْنَكَذَبُوْاعَلَىاللّٰهِوُجُوْهُهُمْمُّسْوَدَّةٌ﴾ (الزمر: 39؍60) ”اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔“﴿ اِنَّاللّٰهَلَذُوْفَضْلٍعَلَىالنَّاسِ ﴾”بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّاَكْثَرَهُمْلَایَشْكُرُوْنَ ﴾”لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔“ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔
اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نازل کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما ظنُّ الذين يفترون على الله الكذبَ يوم القيامة}: أن يفعل الله بهم من النَّكال ويُحِلَّ بهم من العقاب؛ قال تعالى: {ويومَ القيامة ترى الذين كذبوا على الله وجوهُهُم مسودَّةٌ}.
{إنَّ الله لذو فضل على الناس}: كثير وذو إحسان جزيل. ولكنَّ أكثر الناس لا يشكرون، إما أن لا يقوموا بشكرها، وإما أن يستعينوا بها على معاصيه، وإما أن يحرِّموا منها، ويردُّوا ما منَّ الله به على عباده، وقليلٌ منهم الشاكر الذي يعترف بالنعمة، ويثني بها على الله، ويستعين بها على طاعته.
ويستدل بهذه الآية على أنَّ الأصل في جميع الأطعمة الحلُّ؛ إلاَّ ما وَرَدَ الشرع بتحريمه؛ لأن الله أنكر على من حرَّم الرزق الذي أنزله لعباده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔