تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” شَاْنٍ “} کا معنی حال ہے، مگر ایسا حال جو اہمیت رکھتا ہو، جیسے فرمایا: «{ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ }» [الرحمٰن: ۲۹] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ یہ لفظ معمولی اور حقیر کام پر نہیں بولا جاتا۔
➌ { وَ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ: ” مِنْهُ “} کی ضمیر کے متعلق مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر فرمائے ہیں کہ یہ کس کی طرف لوٹتی ہے، وہ سب درست ہیں، مگر میری دانست میں ان میں سب سے آسان اور واضح وہ ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے، یعنی یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ قرآن اسی کی طرف سے آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے اس کا پہلے ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ وہ ہر وقت ہر ذہن میں موجود ہے۔
➍ { وَ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ …:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ آپ کی بندگی کی ہر ہر ادا اور عمل ہمارے سامنے ہے اور مخالفین کے لیے وعید ہے کہ تم جو عمل کرتے ہو، تمھارے اس کام میں مشغول ہوتے ہی ہم بھی گواہ ہوتے ہیں، نہ ہم اس سے بے خبر ہیں، نہ تم اس کی سزا سے بچ سکو گے۔
➎ { وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ …:} یہ بعض جاہل فلسفیوں کی اس بات کی تردید ہے کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا، بڑی بڑی باتیں اس کے علم میں آتی ہیں، چھوٹی باتیں نہیں۔ {” ذَرَّةٍ “} سب سے چھوٹی چیونٹی کو بھی کہتے ہیں اور روشن دان وغیرہ سے آنے والی روشنی کے اندر بکھرے ہوئے باریک ذروں کو بھی۔ فرمایا کہ زمین ہو یا آسمان اس میں نہ ایک ذرہ برابر چیز اس سے غائب ہے، نہ اس سے بھی چھوٹی یا بڑی کوئی چیز، بلکہ وہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ کتاب مبین کا معنی لوح محفوظ بھی کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم بھی۔ اسی آیت کی ہم معنی سورۂ انعام کی آیات (۵۹، ۶۰) ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ خشکی و تری کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ہر پتے کے جھڑنے کی اسے خبر ہے۔ زمین کے اندھیروں میں جو دانہ ہو، جو تر و خشک چیز ہو، سب کتاب مبین میں موجود ہے ‘۔
الغرض درختوں کا ہلنا، جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بے خبر ہو۔
فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ [6-الانعام:38] ایک اور آیت میں ہے کہ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-ھود:6] زمین کے ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بے خبر ہو۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:217-219] ’ اس ذی عزت بڑے رحم و کرم والے اللہ پر تو بھروسہ رکھ جو تیرے قیام کی حالت میں تجھے دیکھتا رہتا ہے سجدہ کرنے والوں میں تیرا آنا جانا بھی دیکھ رہا ہے ‘۔
یہی بیان یہاں ہے کہ ’ تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو ‘۔
{ جبرائیل علیہ السلام نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے } }۔ [صحیح بخاری:50]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عموم مشاهدته واطِّلاعه على جميع أحوال العباد في حركاتهم وسَكَناتهم، وفي ضمن هذا الدعوة لمراقبته على الدوام، فقال: {وما تكونُ في شأنٍ}؛ أي: حال من أحوالك الدينيَّة والدنيويَّة، {وما تتلو منه من قرآنٍ}؛ أي: وما تتلو من القرآن الذي أوحاه الله إليك، {ولا تعملون من عمل}: صغيرٍ أو كبيرٍ، {إلاَّ كنَّا عليكم شهوداً إذ تُفيضون فيه}؛ أي: وقت شروعكم فيه واستمراركم على العمل به، فراقبوا الله في أعمالكم، وأدُّوها على وجه النصيحة والاجتهاد فيها، وإيَّاكم وما يَكره الله تعالى؛ فإنه مطَّلع عليكم عالمٌ بظواهركم وبواطنكم. {وما يعزُبُ عن ربِّك}؛ أي: ما يُغابُ عن علمه وسمعه وبصره ومشاهدته {من مثقال ذرَّةٍ في الأرض ولا في السماء ولا أصغرَ من ذلك ولا أكبرَ إلا في كتابٍ مُبين}؛ أي: قد أحاط به علمُه وجرى به قلمُه. وهاتان المرتبتان من مراتب القضاء والقدر كثيراً ما يُقرِنُ الله بينهما، وهما العلم المحيط بجميع الأشياء وكتابته المحيطة بجميع الحوادث؛ كقوله تعالى: {ألم تَعْلَمْ أنَّ الله يعلمُ ما في السماء والأرض إنَّ ذلك في كتابٍ إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}.