تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 59

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا ؕ قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا جو اللہ نے تمھارے لیے رزق اتارا، پھر تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال بنا لیا ۔ کہہ کیا اللہ نے تمھیں اجازت دی ہے، یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ En
کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو
En
آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا۔ آپ پوچھیے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر افترا ہی کرتے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لیے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کیے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُ٘لْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ! اللہ نے تمھارے لیے جو روزی اتاری یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذریعۂ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلْتُمْ مِّؔنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ کیا اللہ نے تم کو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى منكراً على المشركين الذين ابتدعوا تحريم ما أحلَّ الله وتحليلَ ما حرَّمه: {قلْ أرأيتُم ما أنزل الله لكم من رزقٍ}؛ يعني: أنواع الحيوانات المحلَّلة التي جعلها الله رزقاً لهم ورحمة في حقِّهم، قل لهم موبِّخاً على هذا القول الفاسد: {آللهُ أذِنَ لكم أم على الله تفترونَ}: ومن المعلوم أنَّ الله لم يأذنْ لهم؛ فعُلِمَ أنهم مفترون.