تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 44

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا وَّ لٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
بے شک اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا اور لیکن لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ En
خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
En
یہ یقینی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ﻇلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْـًٔـا اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے، نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؔ لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {إنَّ الله لا يظلِمُ الناس شيئاً}: فلا يزيدُ في سيِّئاتهم ولا يَنْقُص من حسناتهم، {ولكنَّ الناس أنفسهم يَظْلِمونَ}: يجيئهم الحقُّ قلا يقبلونه، فيعاقِبُهم الله بعد ذلك بالطبع على قلوبهم، والختم على أسماعهم وأبصارهم.