تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 43

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں، تو کیا تو اندھوں کو راستہ دکھائے گا، اگرچہ وہ بصیرت نہ رکھتے ہوں۔ En
اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں
En
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کو تک رہے ہیں۔ پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کے مسدود ہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ، چنانچہ فرمایا ﴿ وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُ٘رُ اِلَیْكَ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کر سکتے۔ جب ان کی عقل، سماعت اور بصارت، جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں، خرابی کا شکار ہو جائیں تب ان کے لیے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُ٘رُ اِلَیْكَ دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال، آپ کے طریقوں، آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر، صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کر دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر انسداد الطريق الثاني، وهو طريق النظر فقال: {ومنهم من ينظرُ إليك}: فلا يفيدُه نظرُه إليك، ولا سَبَرَ أحوالك شيئاً فكما أنَّك لا تهدي العمي ولو كانوا لا يبصرون؛ فكذلك لا تهدي هؤلاء؛ فإذا فسدت عقولُهم وأسماعهم وأبصارهم التي هي الطرق الموصلة إلى العلم ومعرفة الحقائق؛ فأين الطريق الموصل لهم إلى الحق؟!

ودلَّ قوله: {ومنهم من ينظُرُ إليك ... } الآية: أن النظر إلى حالة النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وهديه وأخلاقه وأعماله وما يدعو إليه من أعظم الأدلَّة على صدقه وصحَّة ما جاء به، وأنَّه يكفي البصير عن غيره من الأدلة.