(آیت 44) {اِنَّاللّٰهَلَايَظْلِمُالنَّاسَشَيْـًٔا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آنکھیں بھی دی ہیں، جن سے وہ دیکھ سکتے ہیں، کان دیئے ہیں، جن سے سن سکتے ہیں، عقل و بصیرت دی ہے جن سے حق اور باطل اور جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرکے وہ حق راستہ نہیں اپناتے، تو پھر یہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے [59] آپ پر ظلم کرتے ہیں
[59] یعنی اللہ نے انہیں سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں اور فہم و بصیرت کے لیے دل و دماغ سب کچھ عطا کیا تھا تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکیں پھر اگر وہ ان سے کام نہ لے کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ہی قصور ہے اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّاللّٰهَلَایَظْلِمُالنَّاسَشَیْـًٔـا﴾”اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا“ پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے، نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ ﴿ وَّلٰكِنَّالنَّاسَاَنْفُسَهُمْیَظْلِمُوْنَؔ ﴾”لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔“ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنَّ الله لا يظلِمُ الناس شيئاً}: فلا يزيدُ في سيِّئاتهم ولا يَنْقُص من حسناتهم، {ولكنَّ الناس أنفسهم يَظْلِمونَ}: يجيئهم الحقُّ قلا يقبلونه، فيعاقِبُهم الله بعد ذلك بالطبع على قلوبهم، والختم على أسماعهم وأبصارهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔