اس آیت کی تفسیر آیت 42 میں تا آیت 44 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 اسی طرح بعض لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن مقصد ان کا بھی چونکہ کچھ اور ہوتا ہے اس لئے انہیں بھی اس طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک اندھے کو نہیں ہوتا۔ بالخصوص وہ اندھا جو بصارت کے ساتھ بصیرت سے بھی محروم ہو۔ لیکن ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی اندھا جو دل کی بصیرت سے بھی محروم ہو مقصد ان باتوں سے نبی کی تسلی ہے۔ جس طرح ایک حکیم اور طبیب کو جب معلوم ہوجائے کہ مریض علاج کروانے میں سنجیدہ نہیں اور میری ہدایت اور علاج کی پرواہ نہیں کرتا، تو وہ اسے نظر انداز کردیتا ہے اور وہ اس پر اپنا وقت صرف کرنا پسند نہیں کرتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ اور کچھ ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں خواہ وہ کچھ دیکھتے (بھالتے) [58] نہ ہوں
[58] دل بینا اور ظاہری بینائی:۔
یعنی جو لوگ دل کے بہرے ہیں وہ اگر آپ کی باتیں سن بھی لیں تو ان کے دل پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے عقل بھی ہوں کہ اگر وہ سن نہیں سکتے تو کم از کم اشاروں سے ہی کچھ سمجھ جائیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو دل کے اندھے ہیں ان کا دل آپ کی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ پھر اگر وہ آپ کی باتیں سننے کے لیے آپ کی طرف دیکھ بھی رہے ہوں تو اس دیکھنے کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے بصیرت بھی ہوں کہ اگر کوئی بات ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ظاہری طور پر سننے اور دیکھنے سے آپ یہ توقع مت رکھیں کہ آپ کی باتوں کا ان پر کچھ اثر ہو گا اور وہ ایمان لے آئیں گے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بد تر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا سننا اور دیکھنا بالکل چوپایوں کی طرح ہے وہ بھی عقل و فہم سے کورے یہ بھی کورے۔ اور بد تر اس لحاظ سے کہ چوپایوں میں تو عقل و فہم کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ان میں ایسا ملکہ موجود ہونے کے باوجود اس سے کام نہیں لے رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کے مسدود ہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ، چنانچہ فرمایا ﴿ وَمِنْهُمْمَّنْیَّنْظُ٘رُاِلَیْكَ﴾”اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔“ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کر سکتے۔ جب ان کی عقل، سماعت اور بصارت، جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں، خرابی کا شکار ہو جائیں تب ان کے لیے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمِنْهُمْمَّنْیَّنْظُ٘رُاِلَیْكَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال، آپ کے طریقوں، آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر، صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کر دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر انسداد الطريق الثاني، وهو طريق النظر فقال: {ومنهم من ينظرُ إليك}: فلا يفيدُه نظرُه إليك، ولا سَبَرَ أحوالك شيئاً فكما أنَّك لا تهدي العمي ولو كانوا لا يبصرون؛ فكذلك لا تهدي هؤلاء؛ فإذا فسدت عقولُهم وأسماعهم وأبصارهم التي هي الطرق الموصلة إلى العلم ومعرفة الحقائق؛ فأين الطريق الموصل لهم إلى الحق؟!
ودلَّ قوله: {ومنهم من ينظُرُ إليك ... } الآية: أن النظر إلى حالة النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وهديه وأخلاقه وأعماله وما يدعو إليه من أعظم الأدلَّة على صدقه وصحَّة ما جاء به، وأنَّه يكفي البصير عن غيره من الأدلة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔