کہہ دے کون ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے؟ تو ضرور کہیں گے ’’اللہ‘‘ تو کہہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟
En
(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ ﴾ یعنی ان کے توحید ربوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ مَنْیَّرْزُقُكُمْمِّنَالسَّمَآءِوَالْاَرْضِ ﴾”کون ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے“ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ﴿اَمَّنْیَّمْلِكُالسَّمْعَوَالْاَبْصَارَ ﴾”یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا“ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا، یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ كےباب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿ وَمَنْیُّخْرِجُالْحَیَّمِنَالْمَیِّتِ ﴾”اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے“مثلاً: شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈے سے تخلیق کیا۔ ﴿ وَیُخْرِجُالْمَیِّتَمِنَالْحَیِّ﴾”اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے“ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿ وَمَنْیُّدَبِّرُالْاَمْرَ﴾”اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔“ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الہٰیہ کی تمام اقسام شامل ہیں۔
اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿ فَسَیَقُوْلُوْنَ۠اللّٰهُ﴾”تو وہ کہیں گے، اللہ“ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿ فَقُلْ ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَفَلَاتَتَّقُوْنَ﴾”پھر تم ڈرتے کیوں نہیں۔“ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل لهؤلاء الذين أشركوا بالله ما لم ينزِّلْ به سلطاناً محتجًّا عليهم بما أقرُّوا به من توحيد الرُّبوبية على ما أنكروه من توحيد الإلهية: {قُلْ من يرزُقكم من السماء والأرض}: بإنزال الأرزاق من السماء وإخراج أنواعها من الأرض وتيسير أسبابها فيها. {أم من يملِكُ السمع والأبصار}؛ أي: من هو الذي خلقهما وهو مالكهما؟ وخصَّهما بالذكر من باب التنبيه على المفضول بالفاضل، ولكمال شرفهما ونفعهما. {ومن يُخْرِجُ الحيَّ من الميِّت}؛ كإخراج أنواع الأشجار والنبات من الحبوب والنَّوى، وإخراج المؤمن من الكافر، والطائر من البيضة ... ونحو ذلك، {ويخرِجُ الميِّتَ من الحيِّ}: عكس هذه المذكورات. {ومن يدبِّر الأمرَ}: في العالم العلويِّ والسفليِّ، وهذا شاملٌ لجميع أنواع التدابير الإلهيَّة؛ فإنك إذا سألتهم عن ذلك؛ {فسيقولونَ اللهُ}: لأنهم يعترفون بجميع ذلك، وأنَّ الله لا شريك له في شيء من المذكورات، {فقل} لهم إلزاماً بالحجَّة: {أفلا تتَّقون}: الله فتُخْلِصون له العبادة وحدَه لا شريك له، وتخلَعون ما تعبدُون من دونِهِ من الأنداد والأوثان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔