اس موقع پر ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
En
وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا
اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کیے ہوئے کاموں کی جانچ کرلے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں۔ اس روز ان پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نابود ہو جائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو جائیں گے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ هُنَالِكَ ﴾”وہاں “ یعنی اس روز ﴿تَبْلُوْاكُ٘لُّنَفْ٘سٍمَّاۤاَسْلَفَتْ﴾”جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا“ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿رُدُّوْۤااِلَىاللّٰهِمَوْلٰ٘ىهُمُالْحَقِّوَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انھوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبودان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کر سکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہو جائے گی)۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ يتحسَّر المشركون حسرةً لا يمكن وصفها، ويعلمون مقدار ما قدَّموا من الأعمال وما أسلفوا من رديء الخصال، ويتبيَّن لهم يومئذٍ أنهم كانوا كاذبين، وأنهم مفترون على الله، قد ضلَّت عبادتهم واضمحلَّت معبوداتهم وتقطَّعت بهم الأسباب والوسائل، ولهذا قال: {هنالك}؛ أي: في ذلك اليوم، {تَبْلو كلُّ نفس ما أسلفتْ}: أي: تتفقَّد أعمالها وكسبها وتتبعه بالجزاء وتجازى بحسبه إن خيراً فخيرٌ وإن شرًّا فشرٌّ، {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: من قولهم بصحَّة ما هم عليه من الشرك، وأنَّ ما يعبدون من دون الله تنفعهم، وتدفع عنهم العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔