تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ …:} یہ ”سین“ تاکید کے لیے ہے، قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، یعنی یہ مشرک بھی ضرور کہیں گے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا تم ان سے کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے کافر بھی اس بات کے قائل تھے کہ کوئی اللہ کے برابر نہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر بتوں یا بزرگوں کو اس کی جناب میں اپنا وکیل اور وسیلہ سمجھ کر مانتے تھے، اس سے کافر ہو گئے۔ سو اب بھی جو کوئی کسی مخلوق کے لیے عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے اس پر شرک ثابت ہو جاتا ہے، گو اللہ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کو ثابت نہ کرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» ۱؎ [67-الملک:21] ’ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے ‘۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:46] ’ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا ‘۔
اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔
«يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:29] ’ آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے ‘۔
کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل لهؤلاء الذين أشركوا بالله ما لم ينزِّلْ به سلطاناً محتجًّا عليهم بما أقرُّوا به من توحيد الرُّبوبية على ما أنكروه من توحيد الإلهية: {قُلْ من يرزُقكم من السماء والأرض}: بإنزال الأرزاق من السماء وإخراج أنواعها من الأرض وتيسير أسبابها فيها. {أم من يملِكُ السمع والأبصار}؛ أي: من هو الذي خلقهما وهو مالكهما؟ وخصَّهما بالذكر من باب التنبيه على المفضول بالفاضل، ولكمال شرفهما ونفعهما. {ومن يُخْرِجُ الحيَّ من الميِّت}؛ كإخراج أنواع الأشجار والنبات من الحبوب والنَّوى، وإخراج المؤمن من الكافر، والطائر من البيضة ... ونحو ذلك، {ويخرِجُ الميِّتَ من الحيِّ}: عكس هذه المذكورات. {ومن يدبِّر الأمرَ}: في العالم العلويِّ والسفليِّ، وهذا شاملٌ لجميع أنواع التدابير الإلهيَّة؛ فإنك إذا سألتهم عن ذلك؛ {فسيقولونَ اللهُ}: لأنهم يعترفون بجميع ذلك، وأنَّ الله لا شريك له في شيء من المذكورات، {فقل} لهم إلزاماً بالحجَّة: {أفلا تتَّقون}: الله فتُخْلِصون له العبادة وحدَه لا شريك له، وتخلَعون ما تعبدُون من دونِهِ من الأنداد والأوثان.