اس موقع پر ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
En
وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا
اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کیے ہوئے کاموں کی جانچ کرلے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے
En
(آیت 30) {”هُنَالِكَ“} ”اس وقت، اس جگہ“ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس موقع پر“ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہو جائیں۔ {”تَبْلُوْا“} آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہو جاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہو جائیں گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 یعنی جان لے گا یا مزہ چکھ لے گا۔ 30۔ 2 یعنی کوئی معبود اور ' مشکل کشا ' وہاں کام نہیں آئے گا، کوئی کسی کی مشکل کشائی پر قادر نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو، جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے جانچ لے گا اور وہ سب اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو کچھ وہ افترا پردازیاں [44] کرتے رہے سب انہیں بھول جائیں گی
[44] مشرکوں کے اپنے مشکل کشاؤں کے متعلق عقائد اور بے جا توقعات:۔
مشرک مندرجہ ذیل غلط عقائد کی بنا پر اپنے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں: یہ معبود ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ہم جہاں کہیں سے ان کو پکاریں وہ ہماری بات کو سنتے اور فریاد کو پہنچتے ہیں۔ اللہ ہماری بات نہیں سنتا۔ ہمارے یہ معبود درمیان میں واسطہ کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے معبود ہمیں اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں اگر قیامت ہوئی تو یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے حتیٰ کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ فلاں پیر کی بیعت ہو جانا ہی اخروی عذاب سے نجات کی ضمانت ہے جب قیامت کے دن حقیقت حال مشرکوں کے سامنے آجائے گی تو ایسی سب باتیں بھول جائیں گی اور انہیں خود بھی یاد نہ رہے گا کہ وہ کا ہے کو ان معبودوں کی عبادت کرتے رہے تھے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں۔ اس روز ان پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نابود ہو جائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو جائیں گے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ هُنَالِكَ ﴾”وہاں “ یعنی اس روز ﴿تَبْلُوْاكُ٘لُّنَفْ٘سٍمَّاۤاَسْلَفَتْ﴾”جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا“ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿رُدُّوْۤااِلَىاللّٰهِمَوْلٰ٘ىهُمُالْحَقِّوَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انھوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبودان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کر سکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہو جائے گی)۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ يتحسَّر المشركون حسرةً لا يمكن وصفها، ويعلمون مقدار ما قدَّموا من الأعمال وما أسلفوا من رديء الخصال، ويتبيَّن لهم يومئذٍ أنهم كانوا كاذبين، وأنهم مفترون على الله، قد ضلَّت عبادتهم واضمحلَّت معبوداتهم وتقطَّعت بهم الأسباب والوسائل، ولهذا قال: {هنالك}؛ أي: في ذلك اليوم، {تَبْلو كلُّ نفس ما أسلفتْ}: أي: تتفقَّد أعمالها وكسبها وتتبعه بالجزاء وتجازى بحسبه إن خيراً فخيرٌ وإن شرًّا فشرٌّ، {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: من قولهم بصحَّة ما هم عليه من الشرك، وأنَّ ما يعبدون من دون الله تنفعهم، وتدفع عنهم العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔