اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں، کسی بھی برائی کا بدلہ اس جیسا ہوگا اور انھیں بڑی ذلت ڈھانپے گی، انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر رات کے بہت سے ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں، جب کہ وہ اندھیری ہے۔ یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
En
اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
اور جن لوگوں نے بدکام کیے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان کو ذلت چھائے گی، ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، وه اس میں ہمیشہ رہیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اصحاب جنت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انھوں نے دنیا میں اکتساب کیا، برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے، مثلاً:کفر کی مختلف انواع، انبیا کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ ﴿ جَزَآءُسَیِّئَةٍۭبِمِثْلِهَا﴾”تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔“ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ ﴿وَتَرْهَقُهُمْ ﴾”اور ان کو ڈھانک لے گی۔“﴿ ذِلَّةٌ﴾”رسوائی“ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوف ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے گا۔
یہ باطنی ذلت ان کے ظاہر میں بھی سرایت کر جائے گی اور ان کے چہرے کی سیاہی بن جائے گی۔ ﴿كَاَنَّمَاۤاُغْشِیَتْوُجُوْهُهُمْقِطَعًامِّنَالَّیْلِمُظْلِمًا١ؕاُولٰٓىِٕكَاَصْحٰؔبُالنَّارِ١ۚهُمْفِیْهَاخٰؔلِدُوْنَ﴾”گویا کہ ڈھانک دیے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے“ ان دو گروہوں کے احوال میں کتنا فرق ہے اور دونوں کے درمیان کتنا بعد اور تفاوت ہے! ﴿ وُجُوْهٌیَّوْمَىِٕذٍنَّاضِرَةٌۙ۰۰اِلٰىرَبِّهَانَاظِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوْهٌیَّوْمَىِٕذٍۭؔبَ٘اسِرَةٌۙ۰۰تَظُ٘نُّاَنْیُّفْعَلَبِهَافَاقِرَةٌ﴾ (القیامۃ: 75؍22-25) ”اس روز بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔“﴿ وُجُوْهٌیَّوْمَىِٕذٍمُّسْفِرَةٌۙ۰۰ضَاحِكَةٌمُّسْتَبْشِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوْهٌیَّوْمَىِٕذٍعَلَیْهَاغَبَرَةٌۙ۰۰تَرْهَقُهَاقَتَرَةٌؕ۰۰اُولٰٓىِٕكَهُمُالْ٘كَفَرَةُالْفَجَرَةُ﴾ (عبس: 80؍38-42) ”بہت سے چہرے اس روز روشن اور خنداں و شاداں ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ہوں گے جو گرد سے اٹے ہوئے ہوں گے سیاہی نے ان کو ڈھانک رکھا ہوگا۔ یہ فجار اور کفار ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر أصحاب الجنة؛ ذكر أصحاب النار، فذكر أن بضاعتهم التي اكتسبوها في الدنيا هي الأعمال السيِّئة المُسْخِطَة لله من أنواع الكفر والتَّكذيب وأصناف المعاصي، فجزاؤهم سيئةٌ مثلها؛ أي: جزاء يسؤوهم بحسب ما عملوا من السيئات على اختلاف أحوالهم، {وترهَقُهم}؛ أي: تغشاهم {ذِلَّةٌ}: في قلوبهم وخوفٌ من عذاب الله لا يدفعه عنهم دافعٌ ولا يعصِمُهم منه عاصمٌ، وتسري تلك الذِّلَّة الباطنة إلى ظاهرهم، فتكون سواداً في وجوههم. {كأنَّما أغْشِيَتْ وجوههم قطعاً من الليل مظلماً أولئك أصحابُ النار هم فيها خالدونَ}: فكم بين الفريقين من الفَرْقِ! ويا بُعْدَ ما بينهما من التفاوت! {وجوهٌ يومئذ ناضرةٌ. إلى ربِّها ناظِرَةٌ. ووجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ. تَظُنُّ أنْ يُفْعَلَ بها فاقرةٌ}، {وجوهٌ يومئذٍ مسفرةٌ. ضاحكةٌ مستبشرةٌ. ووجوهٌ يومئذٍ عليها غَبَرَةٌ. ترهَقُها قَتَرةٌ. أولئك هم الكفرة الفجرة}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔