تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ:} حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، مگر انسان دنیا میں بہت سے سہارے تلاش کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعے سے میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے، مگر آخرت میں اس قسم کے سب اسباب ختم ہو جائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، جیسا کہ سورۂ قیامہ میں فرمایا: «{ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ الْمُسْتَقَرُّ }» [القیامۃ: ۱۰ تا ۱۲] ”اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہر گز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں، اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“
➌ { كَاَنَّمَاۤ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا: ” غَشِيَ يَغْشٰي“} (ع) ڈھانپنا۔ {” اَغْشٰي يُغْشِيْ “} (افعال) کسی پر کوئی چیز ڈال دینا جو اسے ڈھانپ لے۔ ان کے چہروں کی حد سے بڑھی ہوئی سیاہی کو تشبیہ دی ہے کہ گویا اندھیری رات کے اندھیروں کے کئی ٹکڑے ملا کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں، جنھوں نے ان کو ڈھانپ رکھا ہو۔ مجرموں کے چہروں کی سیاہی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶، ۱۰۷)، قیامہ(۲۲تا ۲۵) اور عبس (۳۸ تا ۴۱) {” مُظْلِمًا “} یہ {” الَّيْلِ “} سے حال ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر أصحاب الجنة؛ ذكر أصحاب النار، فذكر أن بضاعتهم التي اكتسبوها في الدنيا هي الأعمال السيِّئة المُسْخِطَة لله من أنواع الكفر والتَّكذيب وأصناف المعاصي، فجزاؤهم سيئةٌ مثلها؛ أي: جزاء يسؤوهم بحسب ما عملوا من السيئات على اختلاف أحوالهم، {وترهَقُهم}؛ أي: تغشاهم {ذِلَّةٌ}: في قلوبهم وخوفٌ من عذاب الله لا يدفعه عنهم دافعٌ ولا يعصِمُهم منه عاصمٌ، وتسري تلك الذِّلَّة الباطنة إلى ظاهرهم، فتكون سواداً في وجوههم. {كأنَّما أغْشِيَتْ وجوههم قطعاً من الليل مظلماً أولئك أصحابُ النار هم فيها خالدونَ}: فكم بين الفريقين من الفَرْقِ! ويا بُعْدَ ما بينهما من التفاوت! {وجوهٌ يومئذ ناضرةٌ. إلى ربِّها ناظِرَةٌ. ووجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ. تَظُنُّ أنْ يُفْعَلَ بها فاقرةٌ}، {وجوهٌ يومئذٍ مسفرةٌ. ضاحكةٌ مستبشرةٌ. ووجوهٌ يومئذٍ عليها غَبَرَةٌ. ترهَقُها قَتَرةٌ. أولئك هم الكفرة الفجرة}.