تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 28

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَ شُرَکَآؤُکُمۡ ۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ قَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے جنھوں نے شریک بنائے تھے، کہیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمھارے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ En
اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے
En
اور وه دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کے آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وه شرکا کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیَوْمَ نَحْشُ٘رُهُمْ جَمِیْعًا اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَؔكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُ٘رَؔكَآؤُكُمْ پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُ٘رَؔكَآؤُهُمْ اور ان کے شریک کہیں گے۔ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنْتُمْ اِیَّ٘انَا تَعْبُدُوْنَ تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ويوم نَحْشُرُهم جميعاً}؛ أي: نجمع جميع الخلائق لميعاد يوم معلوم، ونحضِرُ المشركين وما كانوا يعبدون من دون الله، {ثم نقولُ للذين أشركوا مكانَكم أنتم وشركاؤكم}؛ أي: الْزَمُوا مكانكم ليقعَ التَّحاكمُ والفَصْلُ بينكم وبينهم، {فَزَيَّلْنا بينَهم}؛ أي: فرَّقنا بينهم بالبعد البدني والقلبي، فحصلت بينَهم العداوةُ الشديدةُ بعد أن بَذَلوا لهم في الدُّنيا خالص المحبَّة وصفو الوداد، فانقلبت تلك المحبَّة والولاية بغضاً وعداوة. وتبرأ شركاؤهم منهم وقالوا: {ما كنتُم إيَّانا تعبدونَ}: فإننا ننزِّه الله أن يكون له شريكٌ أو نديدٌ.