دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب مل جل گئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاںتک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی اور اس کے رہنے والوں نے یقین کر لیا کہ وہ اس پر قادر ہیں تو رات یا دن کو اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو خوب سوچتے ہیں۔
En
دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہوکر نکلی۔ یہاں تک کہ جب وه زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل وه موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریص بندے کے لیے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لیے ہے۔ جب دنیا مکمل ہو جاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہو جاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ پس بندہ دنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و غم اور حسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَآءٍاَنْزَلْنٰهُمِنَالسَّمَآءِفَاخْتَلَطَبِهٖنَبَاتُالْاَرْضِ ﴾”مانند اس پانی کے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا“ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت جوڑے اگ آئے ﴿ مِمَّایَ٘اْكُ٘لُالنَّاسُ ﴾”جو کہ کھائیں آدمی“مثلاً: غلہ جات اور پھل وغیرہ۔ ﴿ وَالْاَنْعَامُ﴾”اور مویشی“ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں، مثلاً:مختلف اقسام کی گھاس پات، وغیرہ ﴿ حَتّٰۤىاِذَاۤاَخَذَتِالْاَرْضُزُخْرُفَهَاوَازَّیَّنَتْ ﴾”یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے اپنی رونق اور خوب مزین ہو گئی“ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہو جاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے تو دیکھنے والوں کے لیے خوش منظر، غم ہلکا کرنے والوں کے لیے ذریعۂ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز، زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔
﴿ وَظَ٘نَّاَهْلُهَاۤاَنَّهُمْقٰدِرُوْنَعَلَیْهَاۤ﴾”اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی“ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ﴿ اَتٰىهَاۤاَمْرُنَالَیْلًااَوْنَهَارًافَجَعَلْنٰهَاحَصِیْدًاكَاَنْلَّمْتَ٘غْ٘نَبِالْاَمْسِ﴾”ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم، رات کو یا دن کو، پھر کر دیا اس کو کاٹ کر ڈھیر، گویا کہ کل یہاں آبادی ہی نہ تھی“ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے، بالکل اس جیسی ہی۔
﴿ كَذٰلِكَنُفَصِّلُالْاٰیٰتِ﴾”ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ہم ان آیات کو، ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں ﴿ لِقَوْمٍیَّتَفَؔكَّـرُوْنَ ﴾”ان لوگوں کے سامنے جو غوروفکر کرتے ہیں “ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص تو یہ آیات اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو زائل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا تو اب ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے، چنانچہ فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا المثل من أحسن الأمثلة، وهو مطابقٌ لحالة الدنيا؛ فإنَّ لذَّاتها وشهواتها وجاهها ونحو ذلك يزهو لصاحبه إن زها وقتاً قصيراً؛ فإذا استكمل وتمَّ؛ اضمحلَّ وزال عن صاحبه أو زال صاحبه عنه، فأصبح صِفْرَ اليدين منها، ممتلئ القلب من همِّها وحزنها وحسرتها؛ فذلك {كماءٍ أنزلناه من السماء فاختلط به نباتُ الأرض}؛ أي: نبت فيها من كل صنفٍ وزوج بهيج، {مما يأكلُ الناس}: كالحبوب والثمار، {و} مما تأكل {الأنعامُ}: كأنواع العشب والكلأ المختلف الأصناف. {حتى إذا أخذتِ الأرضُ زُخْرُفَها وازَّيَّنَتْ}؛ أي: تزخرفت في منظرها واكتست في زينتها فصارت بهجةً للناظرين ونزهةً للمتفرِّجين وآيةً للمتبصِّرين، فصرت ترى لها منظراً عجيباً ما بين أخضر وأصفر وأبيض وغيره. {وظنَّ أهلُها أنَّهم قادرون عليها}؛ أي: حصل معهم طمعٌ بأن ذلك سيستمرُّ ويدوم لوقوف إرادتهم عنده وانتهاء مطالبهم فيه؛ فبينما هم في تلك الحالة؛ أتاها أَمْرُ اللهِ {ليلاً أو نهاراً فجعلناها حصيداً كأن لم تَغْنَ بالأمس}؛ أي: كأنها ما كانت، فهذه حالة الدُّنيا سواء بسواء. {كذلك نفصِّل الآيات}؛ أي: نبيِّنُها ونوضِّحها بتقريب المعاني إلى الأذهان وضرب الأمثال، {لقوم يتفكَّرون}؛ أي: يُعْمِلونَ أفكارهم فيما ينفعهم، وأما الغافل المعرضُ؛ فهذا لا تنفعه الآيات، ولا يزيلُ عنه الشكَّ البيانُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔