تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا …: ” اَمْرُنَا “} سے مراد اس کے فنا کا حکم ہے، خواہ وہ پک کر زرد ہو گئی ہو اور کاٹ لی گئی ہو، یا پھر کسی دشمن نے کچی ہی برباد کر دی ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت سیلاب، پالے، آگ یا طوفان کی شکل میں آ پڑی کہ پکنے سے پہلے کچی ہی اس طرح کٹ کر نا پید ہو گئی گویا کبھی یہاں رہی ہی نہیں۔{” حَصِيْدًا “} بمعنی {”مَحْصُوْدٌ“} یعنی کٹی ہوئی۔
➌ {كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ: ” لَمْ تَغْنَ “ ” غَنِيَ يَغْنٰي “} (ع) کسی جگہ رہنا۔ یہی حال انسانی زندگی کا ہے، روح پانی کی طرح آسمان سے اترتی ہے اور بدن اس سے مل کر خوب پھلتا پھولتا ہے، جب جوانی پر آتا ہے تو علم و ہنر سیکھتا ہے اور امید ہو جاتی ہے کہ چند روز جی کر مزے اڑائیں گے، گھر والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اب کما کر لائے گا کہ یکایک موت آجاتی ہے اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے {” كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ “} (جیسے وہ کل تھا ہی نہیں)، کچھ مدت بعد وہ ذہنوں سے بھی محو ہو جاتا ہے اور اگر وہ اپنی عمر پوری بھی کر لے تو جس طرح پکی ہوئی کھیتی کاٹ لی جاتی ہے یا خود بخود ہی چورا بن کر بکھر جاتی ہے، اسی طرح بڑھاپے کے بعد یہ بھی فنا کی نذر ہو جاتا ہے۔ سورۂ حدید (۲۰) اور قلم (۱۷ تا ۳۳) میں بھی دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے ایک لمبی حدیث میں آیا ہے: [يُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ لاَ وَاللّٰهِ! يَا رَبِّ! وَيُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسَا فِی الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهٗ يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ لاَ وَاللّٰهِ! يَا رَبِّ! مَا مَرَّ بِيْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ] [مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار: ۲۸۰۷، عن أنس رضی اللہ عنہ] ”قیامت کے دن اس شخص کو جو اہل جہنم میں سے دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، لایا جائے گا، اسے آگ میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: ”کیا تم نے کبھی کوئی خوشحالی دیکھی، کیا تیرے پاس آسودگی آئی؟“ وہ جواب دے گا: ”نہیں اللہ کی قسم! اے میرے رب!“ پھر اہل جنت میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ بدحال تھا، اسے جنت میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: ”کیا تم نے دنیا میں کوئی بدحالی دیکھی، یا کوئی سختی پہنچی؟“ وہ جواب دے گا:”نہیں اللہ کی قسم! اے میرے رب! مجھے کوئی سختی نہیں پہنچی اور میں نے کوئی بدحالی نہیں دیکھی۔“
➍ { يَتَفَكَّرُوْنَ:} تا کہ ان پر غور کریں اور ان سے سبق حاصل کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث میں ہے { بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لا کر جہنم میں ایک غوطہٰ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لایا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہٰ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں } }۔ [صحیح مسلم:2807]
اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کر لیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے
خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر آیت «وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا وَمَا كَانَ اللهُ لِيُهْلِكَهَا إِلا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا» پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے فرمایا ”میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرآت بھی یونہی ہے، لیکن یہ قرأت غریبہ ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:17616:سخت ضعیف] اس کی سند اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا }۔ پھر فرمایا گیا { ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں } } یہ روایت مرسل ہے۔
دوسری متصل بھی ہے، اس میں ہے کہ{ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل علیہم السلام آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2860،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک حدیث میں ہے { ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17623:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا المثل من أحسن الأمثلة، وهو مطابقٌ لحالة الدنيا؛ فإنَّ لذَّاتها وشهواتها وجاهها ونحو ذلك يزهو لصاحبه إن زها وقتاً قصيراً؛ فإذا استكمل وتمَّ؛ اضمحلَّ وزال عن صاحبه أو زال صاحبه عنه، فأصبح صِفْرَ اليدين منها، ممتلئ القلب من همِّها وحزنها وحسرتها؛ فذلك {كماءٍ أنزلناه من السماء فاختلط به نباتُ الأرض}؛ أي: نبت فيها من كل صنفٍ وزوج بهيج، {مما يأكلُ الناس}: كالحبوب والثمار، {و} مما تأكل {الأنعامُ}: كأنواع العشب والكلأ المختلف الأصناف. {حتى إذا أخذتِ الأرضُ زُخْرُفَها وازَّيَّنَتْ}؛ أي: تزخرفت في منظرها واكتست في زينتها فصارت بهجةً للناظرين ونزهةً للمتفرِّجين وآيةً للمتبصِّرين، فصرت ترى لها منظراً عجيباً ما بين أخضر وأصفر وأبيض وغيره. {وظنَّ أهلُها أنَّهم قادرون عليها}؛ أي: حصل معهم طمعٌ بأن ذلك سيستمرُّ ويدوم لوقوف إرادتهم عنده وانتهاء مطالبهم فيه؛ فبينما هم في تلك الحالة؛ أتاها أَمْرُ اللهِ {ليلاً أو نهاراً فجعلناها حصيداً كأن لم تَغْنَ بالأمس}؛ أي: كأنها ما كانت، فهذه حالة الدُّنيا سواء بسواء. {كذلك نفصِّل الآيات}؛ أي: نبيِّنُها ونوضِّحها بتقريب المعاني إلى الأذهان وضرب الأمثال، {لقوم يتفكَّرون}؛ أي: يُعْمِلونَ أفكارهم فيما ينفعهم، وأما الغافل المعرضُ؛ فهذا لا تنفعه الآيات، ولا يزيلُ عنه الشكَّ البيانُ.