تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 25

وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے۔ En
اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
En
اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راه راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لیے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کے لیے ہدایت کو مخصوص کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لیے اپنی رحمت کو مختص کر دیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کر دینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو دارالسلام کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ باقی رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

عمَّ تعالى عباده بالدعوة إلى دار السلام والحثِّ على ذلك والترغيب، وخصَّ بالهداية من شاء استخلاصه واصطفاءه؛ فهذا فضلُه وإحسانُه، والله يختصُّ برحمته من يشاءُ، وذلك عدلُه وحكمته، وليس لأحدٍ عليه حُجَّةٌ بعد البيان والرسل، وسمى الله الجنة دار السلام لسلامتها من جميع الآفات والنقائص، وذلك لكمال نعيمها وتمامه وبقائه وحسنه من كلِّ وجه.