ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِیۡ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ! بیشک میری زمین وسیع ہے، سو تم میری ہی عبادت کرو۔ En
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو
En
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! (اگر تم پر مکہ کی سرزمین تنگ ہو گئی ہے تو) میری زمین یقیناً بڑی وسیع ہے لہذا میری ہی عبادت [88] کرو۔
[88] وطن پرستی اور قوم پرستی کفر ہے۔ اہم چیز دین کی آزادی کے لیے ہجرت:۔
آیت کے الفاظ سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر اس قدر سختیاں روا رکھی تھیں کہ انھیں جینا بھی دو بھر ہو گیا تھا۔ اس مشکل کا حل اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس علاقہ سے ہجرت کر جاؤ اور وہاں جا کر رہو جہاں تم آزادی سے میری عبادت کر سکو۔ واضح رہے کہ اپنے وطن اور اپنے اقرباء سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ لیکن یہ حب الوطنی، وطن پرستی کی حد تک، اور اقرباء سے محبت قوم پرستی کی حد تک نہیں ہونی چاہئے۔ اصل چیز اللہ کی عبادت اور اپنے دین کی حفاظت ہے اس کے مقابلہ وطن اور قبیلہ کچھ چیز نہیں۔ اور اگر دین کا فقدان کر کے وطن اور قوم کو ترجیح دی جائے تو یہی چیز وطن پرستی اور قوم پرستی بن جائے گی اور یہ کفر ہے۔