حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔
En
اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں
3۔ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو آزمایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے [2] ہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور یہ معلوم [3] کرنا چاہتا ہے کہ ان میں سے سچے کون ہیں اور جھوٹے کون
[2] ایمانداروں کی مصائب کی کسوٹی پر جانچ:۔
حضرت خباب بن ارتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟“ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر سیدھے) بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان پر رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کر دیئے جاتے مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ اور اللہ اپنے اس کام (غلبہ حق) کو ضرور پورا کر کے رہے گا۔“ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مالقی النبی و اصحابہ من المشرکین بمکۃ]
[3] عقیدہ بدا اور اس کا جواب:۔
﴿فليعلمن﴾ سے ایک گمراہ فرقہ نے یہ عقیدہ اخذ کیا کہ جوں جوں واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ کو ان کا علم ہوتا جاتا ہے۔ اور اس عقیدہ کو وہ لوگ اپنی اصطلاح میں بدا کہتے ہیں۔ حالانکہ بے شمار آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اور اس میں ظہور پذیر ہونے والے تمام واقعات کا پہلے سے ہی علم ہے۔ اور اس کا یہ علم بھی اس کی ذات کی طرح ازلی ابدی ہے۔ اور اس آیت یا اس جیسی بعض دوسری آیات سے جو اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا وہم پیدا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم صرف صرف ہم انسانوں کے لئے ہے اللہ تعالیٰ کے لئے زمانہ کی یہ تقسیم کوئی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ ہر واقعہ خواہ وہ ہمارے خیال کے مطابق زمانہ سے تعلق رکھتا ہو یا حال سے یا استقبال سے اس کے لئے غیب نہیں بلکہ شہادت ہی شہادت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مستقبل کی خبروں کو بے شمار مقامات پر زمانہ ماضی کے صیغہ میں ذکر فرمایا ہے۔ جیسے ﴿وَنَادٰٓياَصْحٰبُالْجَنَّةِاَصْحٰبَالنَّارِ﴾[7: 44] جیسے ﴿اِذَاالشَّمْسُكُوِّرَتْ﴾[1:81] لیکن یہ ایسے واقعات کے متعلق ہوتا ہے جو انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہ آسکتے ہوں۔ اور جو انسانوں کے تجربہ اور مشاہدہ میں آسکتے ہوں تو ان کا تعلق یقیناً حال اور استقبال سے ہو گا۔ لہٰذا ایسے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور اس کا مطلب صرف یہ ہی نہیں ہوتا تاکہ ہم جان لیں یا معلوم کر لیں بلکہ یہ بھی ہوتا ہے تاکہ تم لوگ جان لو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے یا اور بھی کئی مقامات پر ایسا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فی الواقع ہر شخص کے متعلق پہلے سے علم ہے کہ فلاں شخص کیسے خصائل کا مالک ہے۔ لیکن محض اللہ اپنے علم کی بنا پر کسی کو جزا یا سزا نہیں دیتا جب تک فی الواقع وہ بات عملی صورت نہ اختیار کر لے۔ مثلاً یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت چوری کرے گا۔ لیکن اس علم پر سزا مترتب نہ ہو گی۔ جب تک فی الواقع وہ شخص چوری نہ کر لے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ انداز بیان اس وقت اختیار کرتے ہیں جب اس کا تعلق دوسرے لوگوں کے علم سے ہو۔ ایسی آیات میں علم کا ترجمہ مشاہدہ یا دیکھنے سے کیا جا سکتا ہے اور حضرت ابن عباسؓ اس کا معنی «لِيُرِيَنَّ» ہی کرتے ہیں۔ [ابن كثير] اور اگر علم کا ترجمہ جاننے سے ہی کیا جائے تو اس ”جاننے“ میں اللہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شریک ہوں گے۔ اور بعض علماء نے ایسے مقامات پر لفظ علم کا ترجمہ جاننے کے بجائے جتلانے سے کیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔